امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ سیز فائر کا نیا معاہدہ کھٹائی میں پڑ گیا: صدر ٹرمپ آخر کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مبہم بیانات نے شکوک و شبہات بڑھا دیے؛ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور جوہری تنازع پر ٹرمپ کی 'انتظار کرو اور دیکھو' کی پالیسی، اندرونی کہانی سامنے آ گئی
امریکہ اور ایران کے مابین جاری مہیب کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے مجوزہ "60 روزہ جنگ بندی کے میمورنڈم" پر دستخط ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گئے ہیں۔ سفارتی حلقوں میں یہ تاثر عام تھا کہ دونوں ممالک ایک عبوری معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) نے صحافیوں کے تیکھے سوالات کا جواب دیتے ہوئے شدید ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا اور اشارہ دیا کہ یہ معاہدہ ابھی دستخط کے لیے تیار نہیں ہے۔ خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی واضح کر دیا ہے کہ انہیں معاہدے کے لیے کوئی جلدی نہیں ہے، اور جب تک دونوں سمتوں سے حقیقی اور ٹھوس پیش رفت نہیں ہوتی، وہ قلم کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔
ٹرمپ کی ہچکچاہٹ کی دو بڑی سمتیں: آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام
واشنگٹن کے باخبر ذرائع کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ایران کے سامنے دو ایسے مطالبات رکھ دیے ہیں جن پر وہ کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نہیں ہیں:
آبنائے ہرمز کا مستقبل: ایران نے اس وقت خلیج فارس کی اس اہم ترین بحری گزرگاہ پر اپنا کنٹرول سخت کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل معطل ہے۔ اگر یہ ناکہ بندی مزید ایک ماہ برقرار رہی تو عالمی معیشت کا گلا گھٹ جائے گا۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس اپنے اربوں بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں اس لیے اسے جلدی نہیں، لیکن وہ جانتا ہے کہ یہ تعطل عالمی مارکیٹ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔
یورینیم کا ذخیرہ کہاں جائے گا؟ دوسرا بڑا تنازع ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران نہ صرف یہ عہد کرے کہ وہ مستقبل میں جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، بلکہ اس وقت اس کے پاس موجود افزودہ یورینیم (Enriched Uranium) کو کسی تیسرے ملک میں منتقل کر کے اسٹور کیا جائے۔ ان دونوں نکات پر تہران اور واشنگٹن میں شدید اختلافات برقرار ہیں۔
کیا ٹرمپ مڈٹرم الیکشن یا مزید رعایتوں کے منتظر ہیں؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا ایک دھڑا یہ مانتا ہے کہ ٹرمپ جان بوجھ کر اس معاملے کو طول دے رہے ہیں کیونکہ وہ امریکہ میں ہونے والے مڈٹرم (ضمنی) انتخابات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انتخابات سے پہلے کسی بھی معاہدے کا سیاسی فائدہ نہیں ہوگا، اس لیے وہ وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ایک اور نظریہ یہ ہے کہ امریکہ "پشنگ اٹس لک" (Pushing its luck) کی پالیسی پر گامزن ہے، یعنی جیسے ہی ایران کسی ایک نکتے پر تھوڑی رعایت دیتا ہے، ٹرمپ انتظامیہ فوراً ایک نئی اور زیادہ سخت شرط سامنے رکھ دیتی ہے تاکہ ایران کو مزید دباؤ میں لایا جا سکے۔ اگرچہ ان دونوں باتوں میں منطق موجود ہے، لیکن اصل کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
اصل وجہ: 'معاہدے پر دستخط تو ہو جائیں گے، لیکن کیا تہران اس پر عمل کرا سکے گا؟'
امریکی انتظامیہ کو سب سے بڑا تشویشناک سوال یہ درپیش ہے کہ اگر معاہدے پر دستخط ہو بھی جائیں، تو کیا ایران کے تمام مقتدر دھڑے اس پر عمل کریں گے؟ ایران کے ایک مقتدر حلقے نے حال ہی میں امریکہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ "اگر معاہدہ ہوا تو ہم اس پر سو فیصد عمل درآمد کی ضمانت دیتے ہیں"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایرانی صدر، حکومت اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سب ایک پیج پر ہیں۔
لیکن واشنگٹن اس یقین دہانی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ سیز فائر کے دعووں کے باوجود زمین پر حقیقت مختلف ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال عمان کی خلیج میں دیکھی گئی، جہاں ایک گیمبیا کلاس آئل ٹینکر (جس کا نام غالباً 'لیانانسٹاڈ' بتایا جاتا ہے) عمان کی خلیج سے ایران کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امریکی بحریہ نے اسے بار بار وارننگ دی اور پھر اس پر حملہ کر کے اسے ناکارہ بنا دیا۔ جب دونوں طرف سے اب بھی براہِ راست فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہو، تو اسے حقیقی سیز فائر کیسے مانا جائے؟
سفارتی تبصرہ: صدر ٹرمپ اس وقت معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے ایران کی اندرونی سیاسی صورتحال کا گہرا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا ایرانی مذاکرات کار جو وعدے کر رہے ہیں، کیا ایران کے سخت گیر فوجی دھڑے اور پاسدارانِ انقلاب اسے تسلیم کریں گے یا نہیں؟ اگر تہران کے تمام طاقتور دھڑے اس معاہدے کو قبول نہیں کرتے، تو واشنگٹن کے لیے یہ کاغذ کا ٹکڑا بے معنی ہوگا۔ سیز فائر کا اونٹ اب فریقین کے مطالبات پر نہیں، بلکہ ایران کے اندرونی اتفاقِ رائے پر آ کر رک گیا ہے۔ سیز فائر کا یہ خواب حقیقت کے قریب تو آ رہا ہے، لیکن منزل ابھی دور ہے۔

No comments:
Post a Comment