کینیڈا میں زندگی سستی ہے یا مہنگی؟ مڈل کلاس طبقے کے سکھ اور ان تین خطرناک جالوں کی اندرونی کہانی جو انسان کو برباد کر دیتے ہیں
آمدنی کم ہونا المیہ نہیں، اصل تباہی مستقبل کی آزادی کو پہلے سے گروی رکھنا ہے؛ کینیڈا کا سب سے بڑا مسئلہ منشیات نہیں بلکہ الکحل اور ہاؤسنگ کا نظام ہے، ماہرین کا چشم کشا تجزیہ
عالمی سطح پر امیگریشن کے لیے سب سے پسندیدہ ملک کینیڈا میں رہائش کی حقیقی لاگت (Cost of Living) پر ان دنوں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہر 'شانگ دان بوبی' کی ایک تازہ ترین اور چشم کشا رپورٹ کے مطابق، کینیڈا میں ایک عام اوسط آمدنی کمانے والا شخص بھی انتہائی پرسکون اور باوقار زندگی گزار سکتا ہے۔ یہاں کی تنخواہیں آپ کو راتوں رات امیر تو نہیں بناتیں، لیکن ایک عام خاندان کے لیے اچھا معیارِ زندگی، مفت طبی سہولیات، بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم، بہترین ماحول اور ایک مستحکم سماجی امن فراہم کرنے کے لیے کافی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، کینیڈا میں مہنگائی سے زیادہ بڑا مسئلہ وہ تین خفیہ "جال" یا لیوریجم انسان اپنی نقد رقم مستقبل کی آزادی کو خود اپنے ہاتھوں سے گروی رکھ دیتا ہے۔ کینیڈا میں اوسط درجے کے لوگوں کی بربادی کی وجہ کم کمانا نہیں، بلکہ ان تین خطرناک جالوں میں پھنسنا ہے۔
کینیڈا میں مڈل کلاس کو نگلنے والے 3 بڑے جال
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کینیڈا کے سرمایہ دارانہ نظام میں عام آدمی کو قرض اور غلامی کی زندگی میں دھکیلنے کے لیے تین قسم کے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں:
1۔ کیمیکل کا جال (نشہ آور اشیاء): کینیڈا کا سب سے بڑا سماجی المیہ منشیات سے زیادہ الکحل (شراب نوشی) کا بڑھتا ہوا رحجان ہے۔ یہ ایک ایسا کیمیکل لیوریج ہے جو انسان کی صحت کے ساتھ ساتھ اس کی جیب کو بھی 100 فیصد نقصان پہنچاتا ہے اور کینیڈا کے معاشرے کو سب سے زیادہ نقصان اسی لت سے پہنچ رہا ہے۔
2۔ ہاؤسنگ اور مارگیج کا جال (بیلنس شیٹ لیوریج): کینیڈا میں گھر خریدنے کے لیے لیا جانے والا طویل مدتی قرض (Mortgage) انسان کی زندگی کی آزادی، اس کے کیش فلو اور مستقبل کی تمام امیدوں کو زنجیریں پہنا دیتا ہے۔ اس نظام نے کینیڈا میں ایک ایسا غیر صحت مند معاشی ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں "Bloodsuckers" (خون چوسنے والا طبقہ) دوسروں سے بھاری کرایہ وصول کر کے اپنے بینک کے قرضے اتارتا ہے۔
3۔ کریڈٹ کارڈ کا جال (کنزیومر کریڈٹ): سرمایہ دارانہ نظام کا یہ سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ چمکتی دمکتی اشتہار بازی اور کنزیومر ازم کے جال میں پھنس کر لوگ کریڈٹ کارڈز پر اندھا دھند خریداری کرتے ہیں، جو ان کے شارٹ ٹرم کیش فلو کو تباہ کر کے انہیں سود اور قرض کے ایسے دلدل میں پھینک دیتا ہے جہاں سے نکلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
غلط شادیاں اور جوئے کی لت: تباہی کا دوسرا نام
رپورٹ میں دیگر مسائل کی جڑ بھی انہی چیزوں کو قرار دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک غلط جیون ساتھی کا انتخاب یا خراب ازدواجی تعلق انسان کی پوری زندگی کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ اسی طرح، کینیڈا کے معاشرے میں کھیلوں پر جوا (Sports Betting) اور دیگر جوئے کی لت کیش فلو کو سیکنڈوں میں اڑا دیتی ہے۔
اگر ہم بڑے کینوس پر دیکھیں تو گزشتہ 10 سالوں میں کینیڈا کی مارکیٹ میں پیسے کی گردش (Liquidity) تین گنا بڑھ چکی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ ایک عام انویسٹر ہیں، تو آپ کے اثاثے بھی اسی عرصے میں کم از کم دگنے ہونے چاہیے تھے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ شارٹ کٹ کے چکر میں جوئے یا کھیلوں کی شرطوں پر پیسہ لگائیں۔ اسٹاک مارکیٹ اور ڈیریویٹوز (Derivatives) کی سیکنڈری مارکیٹ بھی خطرات سے بھری پڑی ہے اور وہاں انویسٹمنٹ کے لیے شدید احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن جوئے کے مقابلے میں آپشنز ٹریڈنگ کے پیج پر ایک نمبر پر کلک کرنا پھر بھی عقل مندی کہلا سکتا ہے۔
تبصرہ: کینیڈا ایک بہترین ملک ہے جہاں کا نظام عام آدمی کو تحفظ دیتا ہے، بشرطیکہ انسان اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے۔ اگر آپ کینیڈا جا رہے ہیں یا وہاں مقیم ہیں، تو کریڈٹ کارڈ کے بے جا استعمال، اپنی حیثیت سے بڑے گھر کے قرضے اور عیاشی کی لت سے دور رہیں۔ جو لوگ آہستہ آہستہ اور صابرانہ انداز میں دولت جمع کرتے ہیں، کینیڈا کا نظام انہیں کبھی مایوس نہیں کرتا۔ اصل سکون قرض سے آزادی میں ہے۔

No comments:
Post a Comment