کیا اس طریقے سے مجھے سوئٹزرلینڈ کی شہریت مل جائے گی؟ جانیے یورپی پاسپورٹ حاصل کرنے کا سب سے انوکھا اور تیز ترین خفیہ راستہ
سوئس پاسپورٹ کا خواب دیکھنے والوں کے لیے فرانس اور جرمنی کے راستے بائی پاس پالیسی کا انکشاف؛ براہِ راست امیگریشن کے بجائے یورپی یونین کے قوانین سے فائدہ اٹھانے کی مکمل گائیڈ
زیورخ / پیرس / برلن (خصوصی تجزیہ: امیگریشن ڈیسک):
دنیا کے نقشے پر سوئٹزرلینڈ ایک ایسا ملک ہے جس کی خوبصورتی، امن و امان، مستحکم معیشت اور بلند ترین معیارِ زندگی کی وجہ سے ہر سال لاکھوں لوگ وہاں آباد ہونے کا خواب دیکھتے ہیں۔ سوئس شہریت (Swiss Citizenship) اور وہاں کا سرخ پاسپورٹ حاصل کرنا دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انٹرنیٹ کے فورمز اور سوشل میڈیا پر اکثر لوگ یہ سوال پوچھتے نظر آتے ہیں کہ کیا کوئی ایسا انوکھا شارٹ کٹ یا طریقہ ہے جس کے ذریعے سوئٹزرلینڈ میں قانونی رہائش اور کام کرنے کا حق حاصل کیا جا سکے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے بین الاقوامی امیگریشن امور کے ماہرین اور سوشل میڈیا پورٹل 'ژیہو' (Zhihu) کے معروف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا جادوئی اور ذہین ترین آئیڈیا ہے جو پہلی نظر میں ناممکن دکھائی دیتا ہے، لیکن اگر قانونی باریکیوں کو سمجھا جائے تو یہ سوئٹزرلینڈ پہنچنے کا سب سے پائیدار راستہ بن سکتا ہے۔
درحقیقت، جو لوگ سوئٹزرلینڈ کی شہریت کے خواہشمند ہوتے ہیں، ان کا اصل مقصد وہاں مستقل قانونی رہائش، ملازمت کے حقوق اور ایک ایسا طاقتور پاسپورٹ حاصل کرنا ہوتا ہے جس پر دنیا کے بیشتر ممالک میں بغیر ویزا کے داخلہ ممکن ہو۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ کے سخت ترین قوانین سے براہِ راست ٹکرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ امیگریشن کے شعبے میں سب سے زیادہ قابلِ اعتماد، تیز رفتار اور سب سے کم سرمایہ کاری والا ایک ایسا خفیہ راستہ موجود ہے جو فرانس اور جرمنی سے ہو کر گزرتا ہے۔
پہلا اور تیز ترین راستہ: فرانس کا دو سالہ ماسٹرز پروگرام
اگر آپ کم سے کم وقت اور کم بجٹ میں سوئٹزرلینڈ میں سیٹل ہونا چاہتے ہیں، تو ماہرین کا مشورہ ہے کہ آپ اپنی حکمتِ عملی کو سوئٹزرلینڈ کے بجائے فرانس پر مرکوز کریں۔ اس کا پورا طریقہ کار درج ذیل تین مراحل پر مشتمل ہے:
سب سے پہلے آپ فرانس کی کسی یونیورسٹی میں دو سالہ ماسٹرز ڈگری کے لیے داخلہ حاصل کریں۔ فرانس کا تعلیمی نظام یورپی یونین کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بین الاقوامی طلبہ کو بہت سی مراعات دیتا ہے۔ ماسٹرز کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، آپ کی تمام تر توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ آپ کسی بھی طرح فرانس میں ہی رک جائیں اور کم از کم ایک سال کے لیے وہاں باقاعدہ قانونی ملازمت حاصل کر لیں۔ جیسے ہی آپ کی فرانس میں رہائش اور ملازمت کا دورانیہ پورا ہوگا، آپ فرانسیسی شہریت اور پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے کے اہل ہو جائیں گے۔
ایک بار جب آپ کو فرانس کا پاسپورٹ مل جاتا ہے، تو یورپی یونین کے شہری ہونے کے ناطے آپ کے لیے سوئٹزرلینڈ کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں۔ اگرچہ سوئٹزرلینڈ پہنچ کر نوکری شروع کرنے کے بعد آپ کو ورک پرمٹ کی ضرورت ہوگی، لیکن یورپی یونین کے شہریوں کے لیے سوئس لیبر مارکیٹ میں ویزا حاصل کرنا انتہائی آسان اور تیز رفتار ہوتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں مسلسل دس سال کام کرنے کے بعد آپ وہاں کی شہریت کے لیے بھی اپلائی کر سکتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس پہلے سے فرانسیسی شہریت موجود ہے اور آپ سوئٹزرلینڈ میں قانونی طور پر لاکھوں روپے کما رہے ہیں، تو پھر سوئس شہریت کی کوئی خاص ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اگر خدانخواستہ سوئٹزرلینڈ میں آپ کی نوکری ختم ہو جائے یا آمدنی نہ رہے، تو سوئس حکومت کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے آپ واپس فرانس جا کر وہاں کے شاندار عوامی فلاحی نظام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
دوسرا متبادل راستہ: جرمنی کا ڈوئل سسٹم اور کیئر گیور پروگرام
بہت سے ایسے نوجوان بھی ہوتے ہیں جو فرانس میں ماسٹرز ڈگری کی تعلیمی شرائط پر پورا نہیں اترتے یا ان کے پاس بڑی ڈگریوں کی فیس نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں کے لیے جرمنی کا راستہ موجود ہے، اگرچہ اس میں تھوڑا وقت زیادہ لگتا ہے لیکن یہ انتہائی پائیدار ہے:
جرمنی میں ایک مشہور تعلیمی اور ہنر کا نظام ہے جسے "ڈوئل سسٹم" کہا جاتا ہے۔ یہ پروگرام عام طور پر ۳ سال کا ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں جرمنی اور پورے یورپ میں جس پیشے کی سب سے زیادہ مانگ ہے، وہ ہے 'کیئر گیور' (Caregiver) یعنی بزرگوں اور مریضوں کی دیکھ بھال کرنے کا شعبہ۔ ڈوئل سسٹم کے تحت اس شعبے کی پڑھائی کے دوران ہی آپ کو ماہانہ وظیفہ ملنا شروع ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے آپ کو گھر سے پیسے منگوانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
پروگرام مکمل کرنے کے بعد آپ جرمنی میں ہی رہ کر کچھ سال کام کریں۔ نئے جرمن قوانین کے مطابق، تعلیم کے دورانیے کو ملا کر جیسے ہی آپ کی جرمنی میں رہائش کے ۵ سال پورے ہوں گے، آپ جرمن شہریت اور پاسپورٹ کے اہل ہو جائیں گے۔ جرمن پاسپورٹ ملنے کے بعد سوئٹزرلینڈ جانے کا عمل بالکل وہی ہے جو فرانسیسی شہریوں کا ہے۔ اس راستے کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں اس وقت کیئر گیورز کی شدید ترین قلت ہے، اس لیے ایک فرانسیسی ماسٹرز ڈگری ہولڈر کے مقابلے میں ایک جرمن سرٹیفائیڈ کیئر گیور کو سوئٹزرلینڈ میں فوری نوکری مل جاتی ہے۔ البتہ اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ یہ کام جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی سخت ہے اور اس میں ابتدائی تنخواہ دیگر شعبوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔
دیگر یورپی ممالک کا انتخاب اور زبان کی سخت شرط
کچھ لوگ یہ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ کیا ہم پولینڈ، ہنگری، یونان، پرتگال یا اسپین جیسے ممالک کی شہریت پہلے حاصل کر کے سوئٹزرلینڈ جا سکتے ہیں؟ قانون کے مطابق اس کا جواب بالکل 'ہاں' میں ہے، کیونکہ سوئٹزرلینڈ یورپی یونین کے ہر شہری کو، چاہے وہ پولینڈ کا ہو یا اسپین کا، اپنے ہاں ملازمت کے مساوی حقوق دیتا ہے۔ لیکن اس اسٹریٹجی میں ایک بہت بڑی منطقی خرابی ہے۔
آپ یورپ کے جس ملک کی بھی شہریت لینا چاہیں، وہاں کی حکومت آپ سے کم از کم بی ون کی مقامی زبان بولنے اور لکھنے کا سرٹیفکیٹ مانگے گی۔ مثال کے طور پر، اگر آپ پولینڈ کے راستے سوئٹزرلینڈ جانا چاہتے ہیں، تو آپ کو اپنی زندگی کے کئی سال پولش زبان سیکھنے میں ضائع کرنے پڑیں گے۔ جب آپ پولش زبان سیکھ کر وہاں کا پاسپورٹ لے لیں گے اور سوئٹزرلینڈ پہنچیں گے، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ سوئٹزرلینڈ میں پولش زبان کا کوئی استعمال ہی نہیں ہے اور آپ کی برسوں کی محنت زیرو ہو جائے گی۔ اس کے برعکس، فرانس یا جرمنی کا راستہ اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی اپنی دفتری زبانوں میں فرانسیسی اور جرمن شامل ہیں۔ لہٰذا، فرانسیسی یا جرمن زبان سیکھنے پر آپ جو وقت اور پیسہ لگائیں گے، وہ سوئٹزرلینڈ پہنچنے کے بعد بھی آپ کے کیریئر اور روزمرہ زندگی میں ۱۰۰ فیصد کام آئے گا اور ضائع نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ پولینڈ یا ہنگری جیسے ممالک میں شہریت کا عمل ۵ سے ۸ سال تک طویل ہو سکتا ہے، اس لیے فرانس کا ماسٹرز یا جرمنی کا ہنر کا نظام ہی سب سے بہترین اور عقلمندانہ انتخاب ہے۔
یاد رہے کہ یہ تفصیلی تجزیہ صرف ان لوگوں کے لیے ایک گائیڈ لائن ہے جن کا حتمی ہدف "قانونی طور پر سوئٹزرلینڈ میں کام کرنا اور آباد ہونا ہے"۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ فرانسیسی زبان سیکھ کر کینیڈا کے صوبے کیوبک جانا زیادہ بہتر ہے یا سوئٹزرلینڈ کے مقابلے میں یورپ کے دیگر ممالک کا لائف اسٹائل کیسا ہے، تو یہ ایک بالکل الگ بحث ہے۔ سوئس امیگریشن کے سخت قوانین کے اس دور میں، فرانس اور جرمنی کے راستے کا یہ بائی پاس فارمولا ان تمام محنتی نوجوانوں کے لیے ایک بہترین روڈ میپ ہے جو اپنے مستقبل کو یورپ کے دل میں محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment