How to Immigrate from Pakistan to Abroad Even You don't have money and qualifications


 

موجودہ دور میں بہتر مستقبل، بچوں کی اعلیٰ تعلیم اور معاشی استحکام کے لیے بیرون ملک منتقل ہونے یعنی امیگریشن کا رجحان دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اکثر سوشل میڈیا اور کنسلٹنٹس کی جانب سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ گرین کارڈ یا کینیڈین پی آر (مستقل رہائش) حاصل کرنا انتہائی آسان کام ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے امیگریشن قوانین، وہاں کے پوشیدہ مسائل اور سخت شرائط پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ سامنے آئی ہے جو خوابوں کی دنیا سے نکل کر تلخ حقائق کا سامنا کراتی ہے۔

آئیے دنیا کے نو اہم ترین امیگریشن روٹس کا تفصیلی اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس ملک کا ویزا حاصل کرنا کتنا آسان یا مشکل ہے۔

1۔ نیوزی لینڈ: ’فائیو آئز‘ اتحاد کا آسان ترین لیکن شرطیہ راستہ

دنیا کے پانچ طاقتور ترین ممالک کے خفیہ اتحاد یعنی ’فائیو آئز‘ (جیسے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ) میں نیوزی لینڈ کو امیگریشن کے لحاظ سے سب سے نرم ملک تصور کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کی عمر 55 سال سے کم ہے، آپ کے پاس کم از کم بیچلر ڈگری ہے اور آپ کا پیشہ نیوزی لینڈ کی ’شارٹیج لسٹ‘ (ایسے پیشے جن کی وہاں کمی ہے) میں شامل ہے، تو آپ مستقل رہائش کے لیے اہل ہو سکتے ہیں۔

اس میں دو بنیادی کیٹیگریز ہیں۔ پہلی کیٹیگری (Tier 1) میں انجینئرنگ، آئی ٹی اور سول انجینئرنگ جیسے شعبے شامل ہیں، جن کے ماہرین اپنے ملک سے ہی براہ راست مستقل رہائش (PR) کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ دوسری کیٹیگری (Tier 2) میں ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن (بچوں کی ابتدائی تعلیم) جیسے شعبے آتے ہیں، لیکن اس کے لیے نیوزی لینڈ میں پہلے دو سال کام کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔ لہذا، جو لوگ جلدی میں ہیں، وہ اس راستے کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر آپ کا پیشہ کمی کا شکار نہیں ہے لیکن آپ کے پاس ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے، تو آپ ایک نئے 6 پوائنٹس سسٹم کے تحت بھی قسمت آزما سکتے ہیں۔

2۔ کینیڈا: پائلٹ پروگرام اور دور دراز علاقوں کا محفوظ انتخاب

کینیڈا ہمیشہ سے تارکین وطن کی پہلی پسند رہا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں اس کے قوانین انتہائی سخت ہو چکے ہیں۔ اسٹارٹ اپ ویزا (SUV) کے ذریعے کینیڈا کا ویزا جلدی مل جاتا تھا، لیکن اب اس کی منظوری حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔

موجودہ حالات میں اگر کوئی شخص کینیڈا منتقل ہونا چاہتا ہے، تو اس کے لیے سب سے محفوظ اور بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ کینیڈا کے دور دراز یا دیہی علاقوں کا رخ کرے۔ اٹلانٹک امیگریشن پروگرام (AIP) یا صوبائی نامزدگی پروگرام (PNP) کے تحت براہ راست درخواست دینا زیادہ محفوظ ہے۔ اس کے لیے آپ کا آئی ایل ٹی ایس (IELTS) اسکور کم از کم 5 بینڈ ہونا چاہیے، تعلیمی قابلیت کم از کم ہائر سیکنڈری (انٹرمیڈیٹ) ہو اور سب سے اہم بات یہ کہ کینیڈا کے کسی منظور شدہ آجر (Employer) کی طرف سے ملازمت کی پیشکش (Job Offer) موجود ہو۔ ان شرائط کو پورا کر کے آپ ایک سے دو سال کے اندر کینیڈا کی مستقل رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔

3۔ آسٹریلیا: اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے لیے 3 ماہ میں پی آر

آسٹریلیا کا سب سے مقبول امیگریشن ویزا ’189 سب کلاس‘ ہے۔ وہ افراد جن کا پروفائل اور تعلیمی ریکارڈ انتہائی شاندار ہے، وہ اس ویزے کے ذریعے محض 3 ماہ کے اندر آسٹریلیا کی مستقل رہائش (PR) حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ جتنا پرکشش ہے، اس کا معیارِ اہلیت اتنا ہی سخت ہے۔

اس راستے پر کامیابی کے لیے درخواست گزار کی عمر 35 سال سے زیادہ ہونی چاہیے، اور آئی ایل ٹی ایس (IELTS) کے ہر حصے (لسننگ، ریڈنگ، رائٹنگ، اسپیکنگ) میں 8 بینڈز کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کی ڈگری، امیگریشن کے لیے متعلقہ پیشہ ورانہ پس منظر، یا درخواست گزار کا غیر شادی شدہ ہونا (جس سے اضافی پوائنٹس ملتے ہیں) ضروری ہے۔ ایک متبادل راستہ یہ بھی ہے کہ جو لوگ نیوزی لینڈ کی شہریت حاصل کر لیتے ہیں، وہ اگر آسٹریلیا میں 4 سال مقیم رہیں تو انہیں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دونوں کے پاسپورٹ مل جاتے ہیں۔

4۔ برطانیہ: گلوبل ٹیلنٹ ویزا (GTV) اور دیگر پیچیدگیاں

برطانیہ کا انوویشن ویزا ان لوگوں کے لیے بالکل بیکار ہے جو سائنسی تحقیق سے وابستہ نہیں ہیں یا جن کے نام پر کوئی پیٹنٹ (باقاعدہ ایجاد کی رجسٹریشن) موجود نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے وہاں مختصر قیام بھی کسی کام کا نہیں ہوتا۔

تاہم، اگر آپ کے پاس غیر معمولی اور منفرد تکنیکی مہارتیں ہیں، تو آپ ’گلوبل ٹیلنٹ ویزا‘ (GTV) کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ ویزا بنیادی طور پر اکیڈمیہ، فنون لطیفہ (Arts) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ان پیشہ ور افراد کے لیے ہے جنہیں کسی بڑے عالمی ادارے کی پشت پناہی حاصل ہو۔ اس ویزے کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں عمر، زبان (IELTS) یا مخصوص مدت تک برطانیہ میں رہنے کی کوئی سخت شرط نہیں ہوتی، اور آپ محض 3 سال کے اندر برطانیہ کی مستقل رہائش (ILR) حاصل کر سکتے ہیں۔

5۔ جاپان: صرف 1 سال میں مستقل رہائش کا سنہری موقع

جاپان روایتی طور پر تارکین وطن کے لیے ایک انتہائی سخت ملک مانا جاتا ہے، جہاں مستقل رہائش (PR) حاصل کرنے میں عام طور پر 10 سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ لیکن جاپان نے اب ’ہائیلی اسکلڈ پروفیشنل ویزا‘ متعارف کرایا ہے جو ایک پوائنٹ سسٹم پر کام کرتا ہے۔

اگر آپ نے دنیا کی بہترین جامعات (QS 200) سے گریجویشن کیا ہے تو آپ کو 15 اضافی پوائنٹس ملتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس پی ایچ ڈی (PhD) کی ڈگری ہے جس کے 30 پوائنٹس ہیں اور آپ کی سالانہ آمدنی 1 کروڑ جاپانی ین (Yen) ہے، تو آپ براہ راست اس ویزے کے اہل ہو جاتے ہیں۔ اس پوائنٹ سسٹم کے ذریعے آپ 10 سال کے بجائے صرف 1 سال کے مختصر ترین عرصے میں جاپان کی مستقل رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔

6۔ امریکہ: غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک افراد کے لیے فاسٹ ٹریک ویزا

امریکہ کا ای بی ون اے (EB-1A Extraordinary Ability) ویزا ان لوگوں کے لیے ایک لائف لائن ہے جو ریسرچ، آرٹس، بزنس یا کھیلوں کے میدان میں بین الاقوامی اعزازات، اوریجنل ریسرچ پیپرز یا بڑی علمی کامیابیاں رکھتے ہیں۔ اس ویزے کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اس میں امریکہ کے کسی آجر (Employer) یا اسپانسرشپ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

آپ کو صرف حکومت کی طرف سے طے کردہ 10 میں سے 3 معیار پورے کرنے ہوتے ہیں۔ اس ویزے کی منظوری محض 15 دنوں میں آ جاتی ہے اور ایک سال کے اندر گرین کارڈ آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ دوسری طرف، سرمایہ کاری پر مبنی ای بی فائیو (EB-5) ویزے سے بچنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ یہ انتہائی غیر مستحکم ہے، اس میں فراڈ کے بہت سے چانسز ہیں اور پیسے پھنسنے کے شدید خطرات ہوتے ہیں۔

7۔ پرتگال: یورپ کی شہریت کا آسان ترین دروازہ

پرتگال اس وقت پورے یورپ میں پاسپورٹ اور شہریت حاصل کرنے کے لیے سب سے آسان ملک مانا جاتا ہے۔ پرتگالی ویزا حاصل کرنے کے لیے کم از کم 5 لاکھ یورو (500,000 €) کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس پروگرام کی سب سے بڑی سہولت یہ ہے کہ آپ کو پورا سال وہاں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ مسلسل 5 سال تک ہر سال صرف 7 دن بھی پرتگال میں گزاریں، تو آپ وہاں کی شہریت اور پاسپورٹ کے لیے اہل ہو جاتے ہیں۔ بہت سے سمارٹ لوگ پرتگال کے پاسپورٹ کو ایک سیڑھی کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ بعد میں ڈنمارک، سویڈن یا ناروے جیسے نورڈک ممالک میں جا کر سیٹل ہو سکیں۔

8۔ یونان: گولڈن ویزا کا سچ اور تعلیمی مقاصد

یونان میں ابھی بھی 2 لاکھ 50 ہزار یورو (250,000 €) کی پراپرٹیز دستیاب ہیں، لیکن یاد رہے کہ یہ زیادہ تر کمرشل پراپرٹیز ہیں جنہیں رہائشی شکل دی گئی ہے۔ یونان کے مرکزی اور اچھے علاقوں میں جائیدادوں کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں۔

یونان کا ’گولڈن ویزا‘ صرف 6 ماہ میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم نکتہ یاد رکھنے کا ہے: اگر آپ کا مقصد اپنے بچوں کو یورپی یونین کے تعلیمی نظام یا اوورسیز چائنیز جوائنٹ انٹرنس ایگزامینیشن کے فوائد دلوانا نہیں ہے، تو یونان میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کرنا فائدے کا سودا نہیں ہے۔

9۔ چھوٹے ممالک کے پاسپورٹس: صرف 30 دن میں پلان بی (Plan B)

اگر آپ کے پاس اچھا سرمایہ ہے اور آپ اپنے ملک سے باہر نکلے بغیر، محض 30 دنوں کے اندر کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ یا مستقل رہائش چاہتے ہیں، تو جزائر پر مبنی چھوٹے ممالک (جیسے سینٹ کٹس، گریناڈا، ترکی اور سینٹ لوشیا) بہترین آپشن ہیں۔

یہ پاسپورٹ ہنگامی حالات کے لیے ایک بہترین ’پلان بی‘ ثابت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، گریناڈا یا ترکی کا پاسپورٹ حاصل کر کے آپ امریکی ای ٹو (E-2) انویسٹر ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، جو امریکہ منتقل ہونے کا ایک آسان اور بالواسطہ طریقہ ہے۔ لیکن حقیقت پسندانہ طور پر دیکھا جائے تو ان جزائر پر مستقل رہائش اختیار کرنا یا وہاں کاروبار کرنا عملاً ممکن نہیں ہوتا، یہ صرف سفری دستاویز کے طور پر ہی کارآمد ہیں۔

❌ ایک اہم اور آخری مشورہ: گھر خرید کر یورپی امیگریشن کے دھوکے سے بچیں!

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یورپ کے کسی ملک میں گھر خرید کر ویزا حاصل کرنا زندگی کا سب سے بہترین فیصلہ ہے، لیکن یہاں آپ کو اپنی توقعات بہت زیادہ اونچی نہیں رکھنی چاہئیں۔ یورپ کے اکثر ممالک جو جائیداد خریدنے پر رہائشی ویزا (Residency) دیتے ہیں، ان کی سب سے بڑی خامی یہ ہوتی ہے کہ وہ آپ کو وہاں مقامی طور پر نوکری یا کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

آپ وہاں صرف رہ سکتے ہیں اور اپنا پیسہ خرچ کر سکتے ہیں، لیکن آپ کو وہاں روزگار تلاش کرنے، ملازمت کرنے یا مقامی سطح پر نیا کاروبار پھیلانے میں شدید قانونی پیچیدگیوں اور زبان کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے جائیداد خریدنے سے پہلے اس ملک کے ورکنگ رائٹس (Working Rights) کے قوانین کا مطالعہ لازمی کریں۔

امیگریشن کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے، بلکہ یہ آپ کی تعلیمی قابلیت، مالیاتی بجٹ، صبر اور درست ملک کے انتخاب کا نام ہے۔ ہمیشہ اپنے پروفائل کے مطابق صحیح راستے کا انتخاب کریں تاکہ آپ کا پیسہ اور وقت دونوں ضائع ہونے سے بچ سکیں۔

No comments:

Post a Comment

US inflation has exploded again! The May CPI surged 4.2%, leaving people's wallets in dire straits.

  The global financial landscape has been thrown into another bout of severe volatility following the release of the latest macroeconomic da...