اوورسیز امیگریشن کا حقیقت پسندانہ جائزہ: عام شہریوں کے لیے بیرونِ ملک سیٹلمنٹ کا واحد راستہ کیا ہے؟ ہنر مند افراد کے لیے 'اسکلڈ مائیگریشن' (Skilled Migration) اور 'ایمپلائر اسپانسرشپ' (Employer Sponsorship) کے پروگرامز کا تفصیلی موازنہ
خصوصی رپورٹ: انٹرنیشنل مائیگریشن ڈیسک
آج کے جدید دور میں بیرونِ ملک منتقل ہونے، وہاں مستقل رہائش اختیار کرنے اور ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں ہر دوسرا شخص سرگرداں ہے۔ اگر بالکل صاف اور سیدھی بات کی جائے تو ایک عام اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شخص کے لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں امیگریشن حاصل کرنے کا واحد، سب سے مستحکم اور قانونی راستہ صرف اور صرف "روزگار یعنی کام" (Work-based Immigration) ہے۔ عالمی سطح پر دستیاب مختلف ذرائع اور ڈیٹا کے مطابق، باہر جانے کے خواہشمند دس میں سے نو افراد ہمیشہ 'اسکلڈ ورکر روٹ' (Skilled Worker Route) کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خواہش اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ مطلوبہ ملک کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ کریڈٹ کے مطابق پوائنٹس کیلکولیٹ کریں، اسکور حاصل کریں اور کسی نہ کسی طرح وہاں کی مستقل رہائش یعنی پی آر (Permanent Residency) حاصل کر لیں۔ لیکن یہاں سب سے بڑا مسئلہ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس پوائنٹ سسٹم کے ذریعے کامیابی کا ساحل تلاش کرنے اور فائنل پول (Pool) میں جگہ بنانے والے افراد کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ ہزاروں درخواست گزاروں میں سے کوئی ایک ادھا خوش قسمت ہی اس کٹھن مرحلے کو پار کر پاتا ہے۔
آئیے روایتی باتوں اور لفاظی سے ہٹ کر براہِ راست چند ٹھوس حقائق، تقاضوں اور مثالوں کا جائزہ لیتے ہیں جنہیں دنیا بھر کے سنجیدہ درخواست گزار گوگل اور دیگر پلیٹ فارمز پر تلاش کرتے ہیں۔ امیگریشن کے لیے مقبول ترین ممالک میں کینیڈا کا 'ایکسپریس انٹری' (Canada Express Entry - EE) اور آسٹریلیا کا '189 ویزا سب کلاس' (Australia 189 Visa) سب سے زیادہ عام اور مشہور ہیں۔ کینیڈا کے ایکسپریس انٹری پروگرام کے قوانین انتہائی سخت ہیں۔ اس سسٹم میں جیسے ہی کسی درخواست گزار کی عمر 30 سال یا اس سے زیادہ ہوتی ہے، تو ہر سال کے حساب سے اس کے مجموعی اسکور میں سے 5 پوائنٹس کاٹ لیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ انگریزی زبان کے امتحان یعنی آئیلٹس (IELTS) میں 8777 (Listening 8, Reading 7, Writing 7, Speaking 7) کا بہترین اسکور لانا، ایک عام 6.5 اسکور لانے والے کے مقابلے میں صرف 10 پوائنٹس کا فائدہ دیتا ہے۔ کینیڈا کی طرف سے پی آر کی منظوری حاصل کرنے کے لیے جو "آئیڈیل پروفائل" درکار ہے، اس کے مطابق درخواست گزار کی عمر 30 سال سے کم ہونی چاہیے، اس کا آئیلٹس اسکور لازمی طور پر 8777 ہو، اس کے پاس ماسٹرز (Master's Degree) کی ڈگری ہو اور فیلڈ کا وسیع ورک ایکسپیرینس ہو۔ ان تمام چیزوں کے بغیر کینیڈا کا خواب پورا ہونا ناممکن حد تک مشکل ہو چکا ہے۔
دوسری طرف آسٹریلیا کا 189 ویزا (Independent Skilled Visa) حاصل کرنا تو اس سے بھی کہیں زیادہ مشکل اور پاپڑ بیلنے جیسا کام ہے۔ وہاں کامیابی کے لیے آپ کو آئیلٹس کے چاروں سیکشنز میں 10 میں سے کم از کم 8 بینڈز اسکور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، آپ کی عمر 33 سال سے کم ہونی چاہیے، آپ کے پاس کئی سال کا بین الاقوامی ورک ایکسپیرینس اور بیچلر یا ماسٹرز کی ڈگری ہو۔ اگر آپ یہ سب شرائط پوری کر بھی لیں، تب بھی آپ بمشکل 70 پوائنٹس کے آس پاس پہنچ پاتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف آئی ٹی (Information Technology) اور انجینئرنگ جیسے مقبول اور ہائی ڈیمانڈ پیشوں کے لیے آسٹریلوی حکومت کی طرف سے منظوری کا کم از کم اسکور 100 کے قریب چل رہا ہے۔ اب جو لوگ ان مقبول شعبوں میں امیگریشن کے خواہشمند ہیں، ان کے لیے واحد آپشن یہ بچتا ہے کہ وہ ایک بالکل "پرفیکٹ" مائیگرنٹ بنیں۔ یعنی وہ اپنی گریجویشن کے وقت سے ہی ایک انتہائی باریک بین پلاننگ شروع کریں، جس میں وہاں کی مقامی تعلیم (Local Qualification)، ڈگری مکمل ہوتے ہی فوری ملازمت کا حصول اور آئیلٹس میں 8 بینڈز شامل ہوں، تاکہ عمر بڑھنے کی وجہ سے پوائنٹس کٹنے سے پہلے وہ اسکور حاصل کر سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدر وقت، محنت اور اندھا دھند پیسہ ضائع کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ انسان شروع سے ہی 'ایمپلائر اسپانسرشپ' (Employer Sponsored Visa) کے متبادل راستے کی تلاش کرے۔
اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اسکلڈ مائیگریشن بظاہر دیکھنے میں بہت دلکش لگتی ہے کیونکہ اس میں صرف ایک پوائنٹ سسٹم ہوتا ہے اور آپ اپنے ملک میں بیٹھے بٹھائے ویزا اپلائی کر سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ آپ سے غیر معمولی زبان کی مہارت، اعلیٰ ترین تعلیم، مطلوبہ فہرست کے مطابق پیشہ اور ترجیحی طور پر اسی ہدف بنائے گئے ملک کی ڈگری اور ورک ایکسپیرینس مانگتی ہے۔ اس کے برعکس، روزگار پر مبنی امیگریشن (Work-based Immigration) اگرچہ بظاہر زیادہ وقت لینے والا عمل دکھائی دیتا ہے اور اس میں ایک قانونی ایمپلائر (آجر) کا ہونا لازمی شرط ہے، جس کی وجہ سے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی کامیابی کا تمام تر دارومدار ایمپلائر کے موڈ پر ہے، لیکن اس کا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ اس میں داخلے کی شرائط بہت نرم ہوتی ہیں۔ اگر صورتحال بہت زیادہ خراب بھی ہو، تو آپ قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے فیس یا اخراجات ادا کر کے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں؛ چند لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری یا اخراجات سے آپ کو کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی مستقل رہائش حاصل ہو سکتی ہے۔
آئیے کچھ مزید ممالک کی تازہ ترین صورتحال کا موازنہ کرتے ہیں۔ اگر دیانتداری سے بات کی جائے تو پچھلے ایک دو سالوں سے کینیڈا کے روایتی امیگریشن پروگرامز کی سفارش کرنا چھوڑ دی گئی ہے، کیونکہ وہاں اس وقت کوئی بھی آسان یا بہترین آپشن موجود نہیں ہے۔ یا تو وہاں کے پرانے پروگرامز بند کر دیے گئے ہیں تاکہ پہلے سے موجود لاکھوں فائلوں کے بیک لاگ (Backlog) کو ختم کیا جا سکے، یا پھر ان کی شرائط کو بڑھا کر ایک ناقابلِ عبور سطح پر پہنچا دیا گیا ہے۔ تاہم، اب وہاں کم از کم ایک قانونی راستہ یا لوپ ہول (Loophole) موجود ہے: اگر آپ اپنے ملک میں ایک ہائی انکم ارنر (High-income Earner) ہیں، یعنی آپ کسی بڑی کمپنی کے لیڈر، سینئر ایگزیکٹو، بزنس انٹرپرینیور یا کسی اسٹارٹ اپ کے فاؤنڈر ہیں، تو آپ پوائنٹس سسٹم کی فکر کیے بغیر کینیڈا کی امیگریشن حاصل کر سکتے ہیں۔
اس وقت نیوزی لینڈ کام پر مبنی امیگریشن (Work Visa to PR) کے لیے ان تمام ممالک میں سب سے زیادہ مستحکم اور محفوظ ترین منزل کے طور پر ابھرا ہے، جہاں کامیابی کی شرح (Success Rate) تقریباً 90 فیصد تک ہے۔ مختصراً یہ کہ جب تک آپ کے اور آپ کے ایمپلائر کے دستاویزات میں کوئی قانونی نقص نہ ہو، آپ کو مستقل رہائش ملنے کی سو فیصد ضمانت ہوتی ہے۔ اس کی دیگر شرائط بھی بہت کم ہیں؛ 55 سال سے کم عمر کا کوئی بھی شخص جس کے پاس کسی کالج کا ڈپلومہ یا ڈگری ہو، وہ اس کے لیے اہل ہے۔ اس پورے عمل میں عام طور پر 4 ماہ سے لے کر ڈیڑھ سال کا وقت لگتا ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس کا ابتدائی عمل آپ اپنے ہوم کنٹری سے ہی شروع کر سکتے ہیں، تاہم حتمی طریقہ کار آپ کے انفرادی حالات پر منحصر ہوتا ہے۔
اگر آسٹریلیا کی بات کی جائے تو وہاں روزگار پر مبنی ویزوں کے تقاضے نیوزی لینڈ سے زیادہ سخت ہیں۔ وہاں آپ کو آئیلٹس کے چاروں سیکشنز میں لازمی طور پر 6 بینڈز حاصل کرنے ہوتے ہیں اور اپنی فیلڈ کا 3 سے 5 سال کا تصدیق شدہ ورک ایکسپیرینس دکھانا پڑتا ہے تاکہ آپ 'اسکلز اسیسمنٹ' (Skills Assessment) کا سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں۔ اس اسیسمنٹ کے بغیر آپ آسٹریلیا کی مائیگریشن کی فائل جمع ہی نہیں کروا سکتے۔ جہاں تک امریکہ (USA) کے ایمپلائر اسپانسرڈ امیگریشن پروگرامز کا تعلق ہے، تو وہاں عام کیٹیگریز میں اپلائی کرنے کا سوچیں بھی مت۔ یہ ایک انتہائی طویل اور اعصاب شکن عمل ہے جس میں سالہا سال کا وقت لگتا ہے۔ اگر آپ انجینئرنگ یا کسی انتہائی ٹیکنیکل فیلڈ میں ہیں، تو شاید 8 سے 10 سال مسلسل کام کرنے کے بعد آپ کو گرین کارڈ (Green Card) مل جائے، لیکن اس دوران ملازمت کی تبدیلی یا معاشی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے یہ راستہ انتہائی غیر مستحکم رہتا ہے۔ امریکہ جیسے ملک کے لیے قانون واضح ہے؛ یا تو آپ کے پاس غیر معمولی اور نایاب اسکلز (Skills) ہونی چاہئیں یا پھر آپ کے پاس بہت بڑی انویسٹمنٹ کے لیے پیسہ (Money) ہونا چاہیے، ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر کے ہی آپ وہاں کامیابی سے سیٹل ہو سکتے ہیں۔
مجموعی خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ کی عمر کم ہے، آپ کی زبان پر گرفت (Language Skills) بہترین ہے اور آپ کا پیشہ عالمی سطح پر ان ڈیمانڈ ہے، تو اسکلڈ مائیگریشن کو اپنی اولین ترجیح بنائیے کیونکہ آپ صرف اپنے سپورٹنگ ڈاکومنٹس جمع کروا کر امیگریشن پا سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ادھیڑ عمر (Middle-aged) ہیں، آپ کا تعلیمی اسکور اوسط ہے اور آئیلٹس میں زیادہ بینڈز لانا آپ کے بس کی بات نہیں، تو ذاتی مشورہ یہی ہے کہ اسکلڈ مائیگریشن پر اپنا وقت اور پیسہ برباد کرنا بند کریں اور براہِ راست مستقل رہائش (Permanent Residency) دلوانے والے ورک یا انویسٹمنٹ روٹ کا انتخاب کریں۔

No comments:
Post a Comment